اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ نئی کشیدگی کی خبروں کے درمیان ایک صہیونی تجزیہ کار نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی میزائل صلاحیت نمایاں طور پر سامنے آئی۔
اسرائیلی صحافی، جو ٹی وی چینل اور روزنامہ سے وابستہ ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اسرائیل کے نقطۂ نظر سے سب سے بڑا مسئلہ ایران کے تیار کردہ بیلسٹک میزائل ہیں، جن کی پیداوار میں تیزی آ رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندازوں کے مطابق ایران آئندہ دو برسوں میں پانچ ہزار مہلک بیلسٹک میزائل رکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔
یوسی یہوشع نے مزید کہا کہ اگرچہ اسرائیلی دفاعی نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ان کی استعداد محدود ہے۔ انہوں نے 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دفاعی نظام 86 فیصد میزائلوں کو بھی روک لیں تو باقی ماندہ 14 فیصد بھی شدید اور وسیع نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
ایرنا کے مطابق، صہیونی حلقوں میں 12 روزہ جنگ کے بعد ایران کی میزائل صلاحیت کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور کسی بھی نئی محاذ آرائی کے امکان کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ